جمعرات 9 جولائی 2026 - 12:59
شہید رہبرِ انقلاب کی تشییع نے دنیا کو حسینی فکر کا پیغام دیا: مولانا کلب رشید رضوی

حوزہ/ ہندوستان کے معروف سیاسی و مذہبی رہنما مولانا ڈاکٹر سید کلب رشید رضوی جنہیں مسجد جمکران میں رہبرِ معظم انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ انتہائی قریب سے ادا کرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ اس موقع پر حوزہ نیوز کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ رہبرِ معظم کی عظمت کا اصل معیار ہجوم نہیں، بلکہ مظلوموں کے حق میں ان کی طویل جدوجہد، استقامت اور حسینی فکر سے وابستگی ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، قم المقدسہ/ ملک ہندوستان کے معروف سیاسی و مذہبی رہنما مولانا ڈاکٹر سید کلب رشید رضوی جنہیں مسجد جمکران میں رہبرِ معظم انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ کے موقع پر انتہائی قریب سے نماز ادا کرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ اس موقع پر انہوں نے حوزہ نیوز کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے رہبرِ انقلاب اسلامی کی شخصیت کو عالمِ اسلام اور دنیا بھر کے مظلوموں کے لیے امید، استقامت اور حق کی علامت قرار دیا۔

مولانا ڈاکٹر سید کلب رشید رضوی نے کہا کہ تاریخ کے اس عظیم جنازے میں شرکت ان کے لیے محض ایک موقع نہیں بلکہ ایک روحانی سعادت اور باعثِ افتخار ہے۔ انہوں نے کہا: “میرے لیے فخر کا سبب صرف یہ نہیں کہ اس تاریخی جنازے میں دنیا بھر سے لوگ امڈ آئے، بلکہ اصل فخر اس عظیم نام پر ہے جسے سید علی خامنہ ای کہا جاتا ہے۔”

انہوں نے کہا کہ انسان کی عظمت کا معیار ہجوم اور ظاہری جلوہ نہیں بلکہ حق کے لیے اس کی ثابت قدمی ہے۔ ان کے بقول، حالات مختلف بھی ہو سکتے تھے اور جنازے میں اتنا بڑا مجمع بھی نہ ہوتا، لیکن شیعہ قوم کا عقیدہ ہمیشہ یہی رہا ہے کہ وہ ظالم کے مقابلے میں مظلوم کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے۔

مولانا رضوی نے واقعۂ کربلا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ شیعہ قوم اس امام حسینؑ کا ماتم کرتی ہے جنہیں کربلا کی تپتی زمین پر بے گور و کفن چھوڑ دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اسی حسینی فکر کی بنیاد پر شیعیانِ جہاں ہمیشہ مظلوم کا ساتھ دیتے ہیں اور ظالم کے سامنے سر نہیں جھکاتے۔

انہوں نے رہبرِ انقلاب اسلامی کی جدوجہد کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ گزشتہ کئی دہائیوں سے مظلوموں کے حق میں آواز بلند کرتے رہے اور کم عمری ہی سے راہِ خدا میں استقامت کے ساتھ کھڑے رہے۔ انہوں نے کہا کہ رہبرِ انقلاب کی زندگی، فکر اور جدوجہد آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔

مولانا ڈاکٹر سید کلب رشید رضوی نے اپنے سفر کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ وہ ہندوستان سے ایک وفد کے ہمراہ اسلامی جمہوریہ ایران پہنچے۔ ان کے مطابق، ممبئی سے تہران کے لیے خصوصی پرواز کے ذریعے تقریباً 136 سے 138 افراد پر مشتمل وفد ان کے ساتھ آیا۔

انہوں نے حوزہ علمیہ قم و آیت اللہ علی رضا اعرافی، دفترِ مقامِ معظم رہبری میں معاونِ ارتباطات و امورِ بین الاقوامی آیت اللہ محسن قمی اور ملک ہندوستان میں نمائندے ولی فقیہ حجت الاسلام و المسلمین عبدالمجید حکیم الٰہی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان شخصیات نے ہندوستانی مہمانوں کو محبت کے ساتھ دعوت دی، انتظامات کیے اور مختلف مراحل میں ان کی رہنمائی کی۔ انہوں نے مسجد جمکران میں نمازِ جنازہ میں شرکت کو اپنی زندگی کی بڑی سعادت قرار دیا۔

مولانا رضوی کے مطابق، اس موقع پر دنیا بھر سے آنے والے زائرین اور عقیدت مندوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ انہوں نے انتظامی امور کو سراہتے ہوئے کہا کہ اتنے وسیع اجتماع کو منظم کرنا ایک غیر معمولی ذمہ داری تھی۔

انہوں نے ہندوستانی حکومت، متعلقہ فضائی اداروں اور ان تمام افراد کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس حساس موقع پر ہندوستانی شیعوں کے سفر اور شرکت میں تعاون کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور اسلامی جمہوریہ ایران کے تعلقات صرف سفارتی روابط تک محدود نہیں بلکہ ہزاروں سال پرانی تہذیبی، ثقافتی، علمی اور انسانی وابستگیوں پر قائم ہیں۔

مولانا ڈاکٹر سید کلب رشید رضوی نے کہا کہ ہندوستان کی مختلف زبانوں، ادبی روایتوں اور کتب خانوں میں فارسی زبان، ایرانی تہذیب، شاعری اور انسانی دوستی کے گہرے اثرات نمایاں ہیں۔ ان کے بقول، ہندوستان اور ایران کا تعلق محبت، علم، ادب اور تہذیب کا ایسا مضبوط رشتہ ہے جو ہر دور میں مزید مستحکم ہوتا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا میں دو سو سے زائد ممالک موجود ہیں، مگر ہندوستان کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس کی سرزمین سے اہلِ بیتؑ کی محبت، حسینی فکر اور ایران سے ثقافتی تعلقات کی مضبوط روایت وابستہ رہی ہے۔ انہوں نے رہبرِ انقلاب اسلامی کی جانب سے ہندوستان اور ہندوستانی عوام کے لیے محبت بھرے جذبات کو بھی باعثِ افتخار قرار دیا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha